نئی دہلی ، 5/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت کی درخواست کو راؤس ایونیو کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے شراب پالیسی کیس میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی رائوس ایونیو کورٹ نے اروند کیجریوال کی عدالتی تحویل میں 14 دن کی توسیع کر دی۔ حراست میں 19 جون تک توسیع کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اروند کیجریوال کو ای ڈی نے 21 مارچ کو دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں گرفتار کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے اس گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ 10 مئی کو سپریم کورٹ نے انہیں لوک سبھا انتخابات کی مہم چلانے کے لیے 21 دن کی عبوری ضمانت دی تھی اور 2 جون کو خودسپردگی کرنے کو کہاتھا۔ عدالت نے یہ شرط بھی عائد کی کہ وہ وزیراعلیٰ آفس نہیں جائیں گے اور نہ ہی کسی سرکاری فائل پر دستخط کریں گے۔
ضرورت پڑنے پر اسے لیفٹیننٹ گورنر سے اجازت لینی ہوگی۔ عبوری ضمانت کے دوران ہی، صحت کا حوالہ دیتے ہوئے، سی ایم کیجریوال نے عبوری ضمانت کی مدت بڑھانے کی اپیل کی۔ اس کے لیے انہوں نے بعد میں راؤس ایونیو کورٹ میں بھی درخواست دائر کی۔ سماعت کے دوران ای ڈی نے ان کی عرضی کی مخالفت کی۔ اب عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ عام آدمی پارٹی (آپ) دہلی ایکسائز پالیسی کو سیاسی سازش قرار دیتی رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی، اے اے پی کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ سی ایم نے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران بھی ہر پلیٹ فارم سے یہ الزامات لگائے تھے۔ سرینڈر کرنے سے پہلے سی ایم کیجریوال نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کب جیل سے باہر آئیں گے۔